Custom Search

Amazon Contextual Product Ads

Friday, December 25, 2009

بس اپنے ساتھ رہنا چاہتی ہوں

بس اپنے ساتھ رہنا چاہتی ہوں 
میں اب تجھ سے مُکرنا چاہتی ہوں 
میں اپنی عُمر کے سارے اثاثے 
نئے ٹھب سے برتنا چاہتی ہوں 
یہ دل پھر تیری خواہش کر رہا ہے 
مگر میں دُکھ سے بچنا چاہتی ہوں 
کوئی حرفِ وفا ناں حرفِ سادہ 
میں خاموشی کو سُننا چاہتی ہوں 
میں بچپن کے کسِی لمحے میں رُک کر 
کوئی جُگنو پکڑنا چاہتی ہوں

یہ درد کیوں ہے؟ کہاں ہے؟ میں کہ نہیں سکتا


یہ درد کیوں ہے؟ کہاں ہے؟ میں کہ نہیں سکتا 
ہاں، تمہارے بغیر، اور رہ نہیں سکتا ! 

یہ، لہلہا کے ہوا کیا چلی، جھکوروں میں ؛ 
میں بھی بہنے کو ہوا ساتھ؛ بہ نہیں سکتا ! 

درد، انگڑائیاں لیتا رہا ہے سینے میں ؛ 
ہوک، جو آج اُٹھ رہی ہے، سہ نہیں سکتا ! 

ڈوب آیا ہوں بہُت گہرے، سانس لوں کیسے ؟ 
گھُٹا - گھُٹا - سا ہے دم، پا سطح نہیں سکتا ! 

خاک میں دفن ہوں، تنہائیوں کا مارا میں ؛ 
قبا ے گرد کا امبار، ڈھہ نہیں سکتا ! 

ُمجھ کو معلوم ہے فرھاد کی فطح کا سلہ، 
یہ وہ مقام ہے، جو ہو فطح نہیں سکتا ! 

یوں تو، منجھدھارکی موجوں سے بچے ہیں ھم بھی؛ 
یہ وہ بھنور ہے، ِجسے دے طرح نہیں سکتا ! 

میں نے جیتے ہیں مورچوں پے مورچے ِکتنے! 
یہ سرانجام فطح کر سلح نہیں سکتا!! 

بن کے ھرجائی انتظار، ابد، میں نہ کروں ؟ 
میں وفادار ہوں، ہو مُجھ سے یہ نہیں سکتا !!

Comments

Recent Posts